نیویارک،11/جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے عراق میں فوجی اڈوں پر 16میزائلوں کے داغے جانے پر اُن کا ملک ایران کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے تیار تھا- تاہم کوئی ہلاکت نہ ہونے کے سبب ہم جنگ کی طرف نہیں گئے- جمعرات کے روز امریکہ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے ایک بار پھر باور کرایا کہ3جنوری کو بغداد کے ہوائی اڈے پر امریکی حملے میں مارا جانے والا ایرانی سینئر کمانڈر قاسم سلیمانی امریکی مفادات کے خلاف نئے حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھا،وہ نہ صرف عراق بلکہ دیگر ممالک میں بھی امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا تھا-امریکی صدر کے مطابق اگر ایوان نمائندگان میں انٹلی جنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شیف کو قاسم سلیمانی کے خلاف حملے کا علم ہو جاتا تو وہ اس پر عمل درآمد سے قبل ہی میڈیا میں اِفشا کر دیتے- ٹرمپ کا اشارہ ایوان نمائندگان بالخصوص ڈیموکریٹک ارکان کی طرف سے کی گئی اُس تنقید اور نکتہ چینی کی جانب تھا جس میں کہا گیا کہ بیرون ملک کسی بھی عسکری حملے پر عمل درآمد سے قبل ایوان کو مطلع کرنا ضروری ہے-یاد رہے کہ ٹرمپ نے باور کرایا تھا کہ تمام امریکی فوجی خیریت سے ہیں اور ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں کو معمولی سا نقصان پہنچا- ان کا کہنا تھا کہ ہماری عظیم امریکی افواج ہر چیز کے لیے تیار ہیں -